[Latest News][6]

10

Translate

تعزیہ داری ، مسلم سماج پر ایک بد نما داغ ✍🏼: عبد الرحیم ثمر مصباحی

پرڑیا، ضلع مہوتری نیپال
(سہ ماہی سنی پیغام نیپال ج:1 ش:1 محرم - ربیع الاول 1439ھ)

    محرم الحرام اسلامی کلینڈر کا پہلا مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے کئی اعتبار سے مقدس اور متبرک ہے ۔ اسلامی تاریخ کے بہت سارے اہم واقعات اس مہینے میں رونما ہوئے ہیں۔ اس مہینے میں ایک خاص دن ہے جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہے۔ حدیثوں میں اس کی بے انتہا فضیلتیں وارد ہیں۔ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی البتہ سنت اور کارِثواب کی حیثیت سے اس کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔
    اس بابرکت اور اہم مہینے کو ہند ونیپال کے مختلف خطوں میں لوگ کھیل تماشے کے طور پر مناتے ہیں اور اسلام کی جھوٹی شان کی خاطر بہت سارے خرافات کرتے ہیں۔ خاص طور سے نیپا ل کے ترائی علاقے اور نیپال سے متصل بہار کے متھلانچل خطے میں اس مہینے میں تعزیہ داری ، عورتوں کا گانا بجانا ، ڈھول تاشے، چوکی بھرنا، جنگی کودنا وغیرہ خرافات بے جھجھک کیے جاتے ہیں۔ افسوس تو تب ہوتا ہے جب یہ سارے کام دین و مذہب اور اسلام کی شان کے نام پر کرتے ہیں اور کچھ مولوی نما افراد ان خرافات کے جوازپر دلیلیں بھی پیش کرنے میں نہیں جھجھکتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مولانا صاحب جمعہ میں محرم کی فضیلت و اہمیت پر تقریر کر رہے تھے بولتے بولتے کہنے لگے کہ "اعلیٰ حضرت نے تعزیہ داری کے خلاف فتوی 'عقل 'سے دیا ہے اور 'عقل' عشق کے خلاف ہے۔ ہم تو' عشق 'والے ہیں لہذا تعزیہ داری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گےـ"۔ نعوذ باللہ من ذالک !  کسی نے اس امام صاحب کو ٹوکنے کی زحمت تک نہ کی۔ سب صم بکم عمی کی تصویر بنے رہے۔
تعزیہ داری (داہا)کیا ہے ؟
    نیپال کے ترائی علاقے میں مختلف خرافات کے مجموعہ کا نام تعزیہ داری ہے، یہ خرافات دسویں ذی الحجہ سے لیکر تیرہویں محرم الحرام اور کبھی کبھی بیس صفر المظفر تک مختلف صورتوں میں کیے جاتے ہیں۔ عید الاضحی کے دن تیسرے پہر ڈھول تاشے اور عورتوں کی جھرمٹ میں ہائے ہائے کرتے ہوئے تعزیہ (داہا) کے لیے بانس کاٹتے ہیں ، پھر مہنگے کاریگروں کو تعزیہ بنانے پر مامور کر دیتے ہیں ، جوں ہی محرم کا چاند نظر آتا ہے لوگ پورے مہینے کو منحوس تصور کرنے لگتے ہیں اور کسی بھی کا م کے کرنے کو حرام یا کم سے کم اشبھ خیال کرنے لگتے ہیں ، پھر مرد حضرات پوری دلچسپی کے ساتھ لاٹھی لاٹھی کھیلنے کی مشق (پراکٹیس) میں لگ جاتے ہیں۔ خواتین ہائے ہائے کی تیاری میں یک جٹ ہو جاتی ہیں، آٹھویں محرم کو مٹکور کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ لاٹھی بھالا لیے ڈھول تاشے کے ساتھ جلوس کی شکل میں نکلتے ہیں جن کے پیچھے عورتیں برابر سُر میں سُر ملا کر گیت گاتی ہوئی آتی ہیں پھر سب لوگ ایک مخصوص جگہ جاتے ہیں جہاں ہر سال مٹکور ہوتا ہے، عورتوں کو قدرے پرے رکھ کر لوبان اگربتی سلگاتے ہیں اور زمین سے اجازت مانگ کر تین پانچ یا سات مٹھی مٹی نکالتے ہیں اور بڑے ہی ادب و احترام کے ساتھ اسے لیکر آتے ہیں، پھر کل ہوکر جہاں تعزیہ رکھنا ہے ایک چبوترہ بناتے ہیں اور اس کے بیچ گڑھا کرکے مٹی کو اس میں رکھتے ہیں اور اس کے چاروں طرف لوگ میٹھی چیزوں پر امام حسین کے نام فاتحہ دلواتے ہیں ، اس کو چوکی بھرائی کہا جاتا ہے۔ پھر رات بھر عورتیں گیت گاتی ہیں اور مرد حضرات مختلف کھیل کھیلتے ہوئے شب بیداری کرتے ہیں ،کل ہوکر یعنی یوم عاشورہ کے دن تعزیہ کو "رن" میں لے جاتے ہیں جہاں اور بھی دو چار گاؤں کے تعزیہ لاتے ہیں اور اچھا خاصا میلہ لگا ہوتا ہے ، بے پردہ اچھلتی کودتی عورتیں، مختلف کھانے پینے کی چیزوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں، ڈھول تاشے کے ساتھ آہوسے آہوسے(یا حسین) کرتے لوگ، ایک عجیب طوفان بدتمیزی برپا رہتا ہے پھر وہاں تعزیہ ملن کرتے ہیں، بسا اوقات تعزیہ ملن میں مارپیٹ کی بھی نوبت آجاتی ہے ، پھر وہاں سے"کربلا دور ہے جانا ضرور ہے "کا نعرہ لگاتے ہوئے مصنوعی کربلا کی طرف روانگی ہوتی ہے، مصنوعی کربلا، علاقے کے کچھ گاؤں کے قبرستانوں میں مزار کی شکل کی دو خالی قبریں ہوتی ہیں لوگ عام دنوں میںاس کے طواف اور زیارت کو باعث ثواب سمجھتے ہیں، اسی مصنوعی کربلا میں تعزیہ سے پھول کے ہار کو اتار کر ڈالنے کو تعزیہ دفن کرنا کہتے ہیں، پہلے دفن کرنے کو لیکر لڑائی جھگڑا ہونا عام بات ہوتی ہے، جب دفن سے فارغ ہوتے ہیں تو باجرہ یا جو کی روٹی بطور تبرک کھاتے ہیں اور خواتین اپنی اپنی چوڑیاں توڑ کر پھینک دیتی ہیں گویا وہ بیوہ ہو گئیں ، پھر نوحہ و مرثیہ پڑھتے ہوئے اور ہائے ہائے کرتے ہوئے واپس آجاتی ہیں۔
تعزیہ داری کے خلاف سرکار اعلی حضرت کا فتوی
    تعزیہ داری میں اتنے ناجائز و حرام اور خرافات ہونے کے باوجود کچھ لوگ تعزیہ کو امام حسین کے مزار مقدس کی شبیہ اور نقل کہہ کر تعزیہ داری کی رسم عقیدت سے کرتے اور کرواتے ہیں مگر سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قدس اللہ سرہ العزیز 'فتاوی رضویہ' میں اس تعزیہ داری کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :
تعزیہ ہر گز اس کی نقل نہیں، نقل ہونا درکنار بنانے والوں کو نقل کا قصد بھی نہیں،
مزید منظر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہر جگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس اصل سے نہ کچھ علاقہ نہ نسبت پھر کسی میں پریاں کسی میں براق کسی میں اور بیہودہ طمطراق پھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشت اشاعت غم کے لئے ان کا گشت، اور اس کے گرد سینہ زنی ماتم سازشی کی شور افگنی، حرام مرثیوں سے نوحہ کنی، عقل ونقل سے کٹی چھنی، کوئی ان کھپچیوں کو جھک جھک کر سلام کررہا ہے کوئی مشغول طواف کوئی سجدہ میں گرا ہے کوئی اس مایہ بدعات کو معاذاللہ جلوہ گاہ حضرت امام عالی مقام سمجھ کر اس ابرک پنی سے مرادیں مانگتا منتیں مانتاہے۔ عرضیاں باندھتا حاجت رواجانتا۔ پھر باقی تماشے باجے تاشے مردوں عورتوں کا راتوں کو میل اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طُرہ ہیں، غرض عشرہ محرام الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہرا ہوا تھا، ان بیہودہ رسموں نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا، رنگ رنگ کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن فاسقانہ، یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ ڈھانچ بعینہاحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کے پاک جنازے ہیں :ع
اے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا
گاتے ہوئے مصنوعی کر بلا پہنچے، وہاں کچھ نوچ اتار باقی توڑتاڑ دفن کردئے، یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم ووبال جدا گانہ رہے اللہ تعالیٰ صدقہ حضرات شہدائے کرام کربلا علیہم الرضوان والثناء کا مسلمانوں کو نیک تو فیق بخشے اور بدعات سے توبہ دے اٰمین اٰمین!
    اب سرکار اعلی حضرت فتوی دیتے ہیں، لہذا
تعزیہ داری کہ اس طریقہ نا مرضیہ کانام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔
فتاوی رضویہ، ج: ٢١، ص:٤٢١:٤٢٤
    ہمارے علاقے میں تعزیہ داری مذکورہ طریقہ سے ہٹ کر نہیں ہوتا ہے ، بلکہ معمولی اختلاف سے یہی طریقہ رائج ہے جس کے بارے میں سرکاراعلی حضرت نے بدعت، ناجائز اور حرام کہا ہے۔
    اب جو لوگ کربلائے معلی کی شبیہ بنانے کو لیکر پوری تعزیہ داری کو جواز فراہم کرتے ہیں انہیں اعلی حضرت کا یہ فتوی بھی پڑھ لینا چاہیے:
لہذا دربارہ کربلائے معلی اب صرف کاغذ پرصحیح نقشہ لکھا ہوا محض بقصد تبرک بے آمیزش منہیات پاس رکھنے کی اجازت ہوسکتی ہے-                       (ایضا)

ہماری ذمہ داریاں

    محرم الحرام میں ہونے والے ان خرافات سے مسلم سماج کو پاک وصاف کرنا بہت مشکل کام نہیں ہے ، کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام پران سے بھی بڑے بڑے فتنوں کا طوفان آیااور مختلف ادوار میں مسلم معاشرہ کئی طرح کے خرافات سے دوچار ہوا لیکن ہمارے اسلاف نے ان فتنوں کو نہ صرف روکا بلکہ نام و نشان تک مٹا ڈالا۔تعزیہ اور اس کے ساتھ ہونے والے دیگر خرافات کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر دین کی صحیح سمجھ پیدا کریں۔اسلامی تعلیمات اور صحیح پیغامات ہی انھیں ان خرافات سے بچا سکتی ہیں۔ کچھ بھولے بھالے لوگ اسلام اور مسلمانوں کی شان کے نام پر یہ سارے خرافات کر جاتے ہیں،انھیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اسلام کی شان کس میں ہے۔ انھیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی شان یہ نہیں کہ میلہ لگا کر خلاف شرع کام کیا جائے بلکہ مسلمانوں کی شان تو یہ ہے کہ ان کی مسجدیں آباد اوران کی عورتیں باپردہ رہیں اور ان کے عمل کو دیکھ کر پتہ چلے کہ یہ مسلمان ہیں۔
    اپنے علماے کرام کی بارگاہ میں ایک گذارش کرنا چاہوں گا کہ اس ماہ میں ہونے والے پروگراموں میں صرف واقعات ہی بیان کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان غلط رسم و رواج کے خلاف بھی بولیں، لوگوں کو بتائیں کہ محبت حسین اور محبت اہل بیت ہرگزیہ نہیں کہ تم تعزیہ داری یا خلاف شرع کام کرو بلکہ محبت اہل بیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم شہدائے کربلا کے نام ایصال ثواب ، قرآن خوانی اور ان کے ذکر خیر کی محافل کا اہتمام کرو ، روزہ رکھو ،ان کے نام بھوکوں کو کھانا کھلاؤ ، پیاسوں کو پانی پلاؤاور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرو۔ یہ ہے حقیقی محبت حسین اور محبت اہل بیت۔میلہ ٹھیلا، کھیل تماشا ،جشن اور خوشیاں منانا یہ تو خالص یزیدیوں کا طریقہ ہے جو انھوں نے شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد کیا تھا۔ ساتھ ہی ہم سب کو انفرادی کوششیں بھی کرنی چاہیے ۔ اپنے اپنے حلقوں میں اپنے ملنے جلنے والوں کو تعزیہ داری کے خرافات سے آگاہ کریں ، انھیں سمجھائیں کہ یہ ثواب کا کام نہیں بلکہ ناجائز و حرام کام ہے جو باعث گناہ و عذاب ہے۔ اس لیے اس سے خود بھی بچیں اور اپنے گھر ،پڑوس اور سماج کو بھی اس سے دور رکھیں۔ساتھ ہی گاؤں کے باشعور اورذمہ دار افراد پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنے گاؤں اور گھروں میں پابندیاں لگائیں، اگر ممکن ہو تو سزا اور جرمانہ بھی نافذ کریں۔ عورتوں کی اصلاح کے لیے خصوصی مجلسوں کا اہتمام کریں، انھیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنھا کی کہانیاں سنائیں اور گیت گانے سے سختی سے منع کریں۔ تعزیہ داری کے میلوں میں نہ خود جائیں اور نہ انھیں جانے دیں۔ ان شاء اللہ بہت جلد ہمارے معاشرے سے ان خرافات کا صفایا ہو جائے گا۔

عبد الرحیم ثمر ؔمصباحی پرڑیاوی
arsamarmisbahi@gmail.com

About Author Mohamed Abu 'l-Gharaniq

when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries.

No comments:

अहले सुन्नत व-जमात-कास्की,नेपाल . Powered by Blogger.

Search This Blog

हामीलाई अनुसरण गर्नुहोस्

Start typing and press Enter to search